ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ملک کے موجودہ حالات میں مسلمان اپنی ذمہ داری ادا کریں؛ عید الاضحی کے موقع پر مولانا سید جلال الدین عمری کا خطاب

ملک کے موجودہ حالات میں مسلمان اپنی ذمہ داری ادا کریں؛ عید الاضحی کے موقع پر مولانا سید جلال الدین عمری کا خطاب

Thu, 23 Aug 2018 22:40:08    S.O. News Service

نئی دہلی،23؍اگست(ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )’’ملک کے حالات دو ماہ قبل عید الفطر کے موقع پر جیسے تھے تقریباً ویسے ہی اب بھی ہیں ، بلکہ مزید خراب ہوئے ہیں۔ لاقانونیت عام ہے۔ جن کے ہاتھ میں طاقت ہے وہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ہجومی تشدّد کے واقعات مسلسل پیش آرہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ منظّم گروہ نکلتے ہیں اورراستے میں جو بھی ملتا ہے اسے موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ خواتین کی عزّت و آبرو اپنے گھر اور خاندان میں بھی محفوظ نہیں ہے۔ ان پر زیادتیاں کرنے والے عموماً گھر کے افراد ہی ہوتے ہیں۔زنا بالجبر کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ خواتین پوری دنیا میں اور خاص طور پر ہندوستان میں محفوظ نہیں ہیں۔

ہم جنسیت کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملک کی معیشت پر چند سرمایہ داروں کا قبضہ ہے۔آزادی رائے پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ ایسے حالات میں کیا ہم مہر بہ لب ہیں؟کیا خاموشی سے آنکھیں بند کیے رہیں؟ جو ہو رہا ہے ہونے دیں؟ بلا شبہ ہمارے مسائل ہیں اور سنگین مسائل ہیں، لیکن ہمیں ان کے حل کی کوشش ہونی چاہیے۔ہماری ذمے داری ہے کہ ان حالات سے خود کو لاتعلّق نہ رکھیں۔ ملک سے ہماری خیر خواہی کا تقاضا ہے کہ اصلاحِ احوال کی جدّوجہد کریں۔‘‘

ان خیالات کا اظہار مولانا سید جلال الدین عمری امیر جماعت اسلامی ہندنے مرکز جماعت اسلامی ہندکیمپس میں واقع مسجد اشاعتِ اسلام میں عید الاضحیٰ کا خطبہ دیتے ہوئے کیا۔انھوں نے کہاکہ اللہ کے رسول ﷺجب مبعوث کیے گئے تھے تو عرب کے حالات اس سے بھی بدتر تھے۔ آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ کا حق کا اعلان کریں، لوگوں کو سیدھی راہ کی طرف رہ نمائی کریں اور انہیں اللہ کی طرف بلائیں۔

آپ سے کہا گیا کہ آپ اللہ کے پیغمبرحضرت ابراہیم علیہ السلام کے طریقے کی پیروی کریں، جن کا دین بالکل سیدھاتھا اور جو اللہ تعالیٰ کی طرف یک سو تھے۔امیر جماعت نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہمارے کرنے کے دو کام ہیں: ایک یہ کہ ہم اپنی پوری زندگی کو اللہ کے احکام کے تابع کردیں۔ چلتے پھرتے ، لیٹتے بیٹھتے، ہر لمحے اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی گزاریں۔ہماری نماز، ہماری عبادت، ہمارا جینا ، ہمارا مرنا ، سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہو ۔جب انسان اپنی پوری زندگی اللہ کے حوالے کر دیتا ہے تو اسے خدا پرستی کی معراج حاصل ہوتی ہے۔

دوسرا کام یہ ہے کہ ہم دوسروں کو اللہ کی طرف دعوت دیں۔ مولانا نے فرمایا کہ آپ بھکاری بن کر نہ رہیں، دنیا کے پیچھے چلنے والے نہ بنیں، بلکہ اس کے رہبر بنیں۔اس طرح آپ کے مسائل بھی حل ہوں گے اور آپ اپنی ذمے داریاں ادا کرنے والے بھی ہوں گے۔

امیر جماعت نے نماز سے قبل بھی عید الاضحی کے کچھ مسائل بیان کیے۔

انھوں نے فرمایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل قربانی ہے ۔یہ ہر صاحبِ نصاب پر واجب ہے۔ یہ اللہ کے پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، جس پر پوری دنیا کے مسلمان عمل کرتے ہیں۔ انھوں نے کیرلا کے سیلاب زدگان کے لیے اپیل کی کہ ان کا زیادہ سے زیادہ مالی تعاون کیا جائے۔کیرلا میں ایسی تباہی سو سال میں پہلی بار آئی ہے۔ ملک میں کہیں بھی قدرتی آفت آئی ہے تو کیرلا کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔ 


Share: